ہوناور:18؍مارچ (ایس اؤ نیوز)کاسرکوڈ کے ٹونکامیں زیر تعمیر پرائیویٹ بندرگاہ کے خلاف ماہی گیروں کا احتجاج جاری ہے۔ اس موقع پر بدھ کو کاسرکوڈ گرام پنچایت کے نمائندوں اور افسران نے جائے احتجاج پر پہنچ کر احتجاجیوں کےمطالبات کی سماعت کرتےہوئے اس سلسلے میں گفتگو کی۔
پرائیویٹ بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف پچھلے 40دنوں سے جاری ماہی گیروں کا احتجاج روز بروز سخت ہوتاجارہاہے۔ ان 40دنوں میں پہلی مرتبہ پنچایت کے نمائندوں نے احتجاجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے مسئلہ پر بحث کی۔ پچھلے ہفتہ ماہی گیروں نے پنچایت سے اپیل کی تھی جس کی بنیاد پر آج پنچایت کے ممبران نےجائے احتجاج پر پہنچے تو ماہی گیروں اور مقامی عوام نے اپنی شکایات پیش کیں۔
احتجاجیوں نے بتایا کہ ضلع میں شراوتی ندی بہت ہی پاک صاف مانی جاتی ہے کیونکہ ندی کنارے پر کوئی فیکٹری وغیرہ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ علاقے کے عوام صحت مند ہیں۔ اگر اب یہ بندرگاہ تعمیر ہوگی تو آئندہ دنوں میں ندی میں بھی آلودگی پیدا ہونے کے علاوہ ہلدی پور اور افسرکونڈا کی طرف بھی پانی آلودہ ہوجائے گا جس کے کنارے کیچووں کے لئے محفوظ مقام مانا جاتا ہے احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ افسران کو اسی علاقے کے کناروں میں کیچوے کی چہل پہل کے نشانات اور اس کے انڈے پائے گئے ہیں جس سے ثابت ہوچکا ہے کہ ہماری باتوں میں صداقت ہے۔ احتجاجیوں نے کہا کہ عوام کی سخت مخالفت کے باوجود آفسران کا عوام کے احتجاج پر توجہ نہ دینا حکومت کی لاپرواہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چونکہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں ہماری فریاد سننے کے لئے تیار نہیں ہیں تو ہم پنچایت سے اپیل کرتےہیں کہ وہ ہماری باتوٓں کو سنیں اور بندرگاہ کی تعمیر کی مخالفت میں ہمارا ساتھ دیتے ہوئے ضروری قدم اُٹھائیں۔
احتجاجیوں کی اپیل کو قبول کرتے ہوئےپنچایت صدر منجوگوڈا نے کہاکہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، آگے بھی آپ کا بھرپور تعاون کرتے رہیں گے۔ آپ کے مطالبہ کے مطابق پنچایت کی طرف سے گرام سبھا طلب کی جائے گی۔ اگلے ایک دو دنوں میں اس سلسلے میں کیاکیا اقدامات کرنے ہیں اس تعلق سے غوروفکر کی کی جائے گی۔ انہوں نے ماہی گیروں کو بتایا کہ گرام سبھا میں سبھی کے تعاون سے جوبھی فیصلہ لیاجائے گا وہ اعلیٰ افسران تک پہنچایاجائےگا۔ اور پنچایت کی سطح پر عوام کو جو بھی سہولیات فراہم ہونی ہیں وہ سب قانون کے مطابق دئیے جانےکا پنچایت افسر ناگراج نے بھی تیقن دیا۔
27ممبران والی پنچایت میں سے صدر اور صرف 8ممبران کی شرکت پر احتجاجیوں نے سخت اعتراض اور برہمی کا بھی اظہار کیا۔ ماہی گیروں نے انتباہ دیا کہ اگر ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو اگلے دنوں میں پنچایت اور متعلقہ افسران کے دفاتر کے سامنے احتجاج کیاجائےگا۔